Horror
all age range
2000 to 5000 words
Urdu
Story Content
کوئٹہ شہر کے ایک پرانے محلے میں، عائشہ نامی ایک نوجوان لڑکی ایک بوسیدہ، لیکن پیارے سے گھر میں رہتی تھی۔ یہ گھر اس کے آباؤ اجداد نے تعمیر کیا تھا اور اس میں اس کی زندگی کی کئی یادیں وابستہ تھیں۔
عائشہ ایک کتابوں کی رسیا لڑکی تھی، جو رات گئے تک پڑھا کرتی تھی۔ ایک رات، اس نے ایک عجیب بات محسوس کی، جب اس نے اپنے کمرے کی لائٹ بند کی تو اسے ایک مخصوص قسم کی خوشبو محسوس ہوئی۔ پہلے پہل تو اس نے سوچا کہ شاید یہ اس کے پرفیوم کی خوشبو ہوگی جو ہوا میں رہ گئی ہے۔
لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے، عائشہ کو احساس ہونے لگا کہ یہ خوشبو اس کے پرفیوم سے مختلف ہے۔ یہ ایک گہری، میٹھی خوشبو تھی جو عام طور پر اس نے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی۔
ایک شام، وہ خوشبو خاص طور پر تیز تھی۔ عائشہ کو کچھ عجیب سا لگا اور وہ بے چینی سے اپنے کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔ اس نے سوچا کہ کیا یہ خوشبو اس کے گھر کے ارد گرد موجود پودوں سے آ رہی ہے؟ لیکن موسم خزاں کے ان دنوں میں تو کوئی پھول نہیں کھِلا تھا۔
اگلی چند راتوں میں، یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہر بار جب وہ کمرے کی لائٹ بند کرتی، خوشبو پہلے سے زیادہ قوی ہوتی جاتی تھی۔ عائشہ نے اس بارے میں اپنے دوستوں اور گھر والوں سے بات کی لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے یہی کہا کہ یہ اس کا وہم ہے یا اس کے پرفیوم کی ملی جلی خوشبو ہے۔
عائشہ نے خود اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے انٹرنیٹ پر اس قسم کی خوشبو کے بارے میں تحقیق شروع کی جو اسے محسوس ہوتی تھی۔ وہ گھنٹوں مختلف ویب سائٹوں اور فورمز پر سکرول کرتی رہی لیکن اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
ایک دن، وہ ایک پرانی کتابوں کی دکان پر گئی، جو شہر میں مشہور تھی۔ دکان میں ہر طرح کی نایاب اور عجیب کتابیں موجود تھیں۔ اس نے دکان کے مالک سے اس خوشبو کے بارے میں پوچھا جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا۔
دکان کے مالک، جو خود بھی ایک پڑھے لکھے اور سمجھدار آدمی تھے، نے عائشہ کی بات غور سے سنی۔ پھر انہوں نے الماری میں سے ایک پرانی، دھول مٹی سے اٹی کتاب نکالی اور اسے عائشہ کو تھما دی۔
یہ کتاب پرانے قصوں اور کہانیوں پر مشتمل تھی، اور اس میں عجیب و غریب واقعات کا ذکر تھا۔ دکان کے مالک نے عائشہ کو ایک خاص صفحہ دکھایا، جس میں ایک ایسی خوشبو کا ذکر تھا جو اندھیرے میں ظاہر ہوتی ہے۔
کتاب میں لکھا تھا کہ یہ خوشبو ان لوگوں کی روحوں سے آتی ہے جو اپنی زندگی میں روشنی سے محروم رہے تھے۔ یہ روحیں اندھیرے سے جڑی ہوتی ہیں اور جب کوئی ان کی دنیا میں داخل ہوتا ہے، تو وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے خوشبو کا استعمال کرتی ہیں۔
عائشہ کو یہ پڑھ کر خوف محسوس ہوا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے گھر میں ایسی روحیں موجود ہیں جو اندھیرے سے جڑی ہیں؟ اس نے فوراً گھر جانے کا فیصلہ کیا، اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ اس نے پڑھا ہے وہ سچ نہیں ہے۔
گھر پہنچ کر اس نے تمام کمروں کی لائٹیں جلائیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج رات اندھیرا نہیں کرے گی۔ لیکن رات ہوتے ہی، لائٹیں مدھم ہونے لگیں اور پھر مکمل طور پر بجھ گئیں۔
عائشہ نے جلدی سے اپنے فون کی ٹارچ جلائی۔ ٹارچ کی روشنی میں، اس نے محسوس کیا کہ وہ خوشبو پھر سے آ رہی ہے۔ لیکن اس بار، یہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور دل دہلا دینے والی تھی۔
خوشبو اس قدر تیز تھی کہ عائشہ کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ اس نے گھبرا کر کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن دروازہ جام ہو چکا تھا اور وہ اسے کھولنے میں ناکام رہی۔
وہ ایک کونے میں دبک گئی اور خوفزدہ ہو کر رونے لگی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کمرے میں موجود روحیں اس کے گرد منڈلا رہی ہیں۔ وہ اپنی طرف بڑھتی ہوئی نا معلوم قوت کو محسوس کر سکتی تھی۔
اسی اثناء میں اس کے فون کی بیٹری ختم ہوگئی اور کمرہ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ وہ خوشبو شدت سے بڑھتی رہی اور پھر اچانک ہر چیز خاموش ہوگئی۔
اگلی صبح، عائشہ کے والدین اس کی خیر خبر لینے آئے۔ جب انہوں نے دروازہ کھولا تو عائشہ فرش پر بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔
اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے والدین کو رات والی بات بتائی۔ لیکن وہ اسے یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ صرف ایک برا خواب تھا۔
لیکن عائشہ جانتی تھی کہ اس نے جو کچھ بھی محسوس کیا وہ حقیقی تھا۔ وہ خوشبو، وہ اندھیرا، وہ خاموشی۔۔۔ سب کچھ حقیقی تھا۔
عائشہ اس گھر میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے والدین کے پاس کوئی اور ٹھکانہ نہیں تھا۔ انہیں مجبورا اسی گھر میں رہنا تھا۔
کچھ دنوں بعد، عائشہ نے دوبارہ کمرے کی لائٹ بند کی۔ خوشبو پھر سے آئی۔ لیکن اس بار اس نے ڈرنے کے بجائے ہمت کی۔ اس نے اس خوشبو کو قبول کرنے کی کوشش کی۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے دل میں ان روحوں کے لیے رحم کا جذبہ پیدا کیا۔ اس نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی اور ان سے درخواست کی کہ اسے معاف کر دیں۔
اس کے بعد سے خوشبو آنا بند ہوگئی۔ لیکن عائشہ جانتی تھی کہ وہ روحیں اب بھی وہاں موجود ہیں۔ وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتی تھیں، اس انتظار میں کہ کوئی ان کی موجودگی کو محسوس کرے۔
عائشہ نے اس واقعے کے بعد روشنیوں کی قدر کرنا سیکھ لی۔ اس نے جانا کہ روشنی صرف دیکھنے کے لیے ہی نہیں ہوتی، بلکہ یہ روحوں کے لیے امید کی علامت بھی ہوتی ہے۔